Wed Oct 14, 2026

امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ

روزانہ کی خبریں

غیر ملکی افواج کا انخلا 31 اگست تک مکمل ہو جانا چاہیے، پنجشیر کا مسئلہ بات چیت سے حل ہو گا، ذبیح اللہ مجاہد

کابل: افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت مغربی جمہوریت کی طرز پر نہیں ہو گی۔ پنجشیر کا مسئلہ بات چیت سے حل ہو گا، جنگ کی نوبت نہیں آئے گی۔ افغان سر زمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہو گی۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت بنانے کیلئے مشاورتی عمل جاری ہے، حالیہ دنوں میں افغانستان میں تشدد اور قتل کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ 20 سال سےافغانستان جنگ و جدل کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10روز سے کابل سمیت پورے افغانستان میں امن ہے، کابل ایئرپورٹ کے علاوہ ملک بھرمیں حالات معمول پر ہیں، افغانستان میں حالات کنٹرول میں ہیں، تمام بینکوں نے آزادی کیساتھ کام شروع کر دیا ہے، ملک اورعوام کی خدمت کرنیوالے ادارے فعال ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کے گورنرکی تعیناتی کر دی گئی ہے، تعلیمی اداروں نے کام شروع کر دیا ہے، نئی حکومت مغربی جمہوریت کی طرز پرنہیں ہوگی، تمام افغانوں کو تحفظ کا یقین دلاتے ہیں۔ طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی پالیسی پر گامزن ہے، امریکا لوگوں کو افغانستان سے نکلنے کی تجویز دے رہا ہے۔ سیاسی محاذ پر بات جاری ہے۔ کسی کیخلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ڈاکٹرز اور انجینئرز کی ضرورت ہے، ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج معالجہ جاری ہے، افغان شہری ملک میں رہ کر ملکی ترقی میں حصہ ڈالیں، طالبان عام معافی کے اعلان پر قائم ہیں۔ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو نشریات معمول کے مطابق جاری ہیں۔خواتین سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو آزادی دینے پر یقین رکھتے ہیں، کچھ اداروں میں سیکیورٹی کی وجہ سے خواتین کو آنے سے روکا گیا۔ خواتین کیلئے پالیسیاں بنا رہے ہیں۔ پنجشیر میں لڑائی سے متعلق افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پنجشیر کا مسئلہ بات چیت سے حل ہو گا، جنگ کی نوبت نہیں آئے گی۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ ایئرپورٹ میں موجود ہجوم کو واپس گھروں کو جاسکتے ہیں، ہم ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دیتے ہیں۔ ایئرپورٹ پررش ہوتو امریکی فائرنگ کرتے ہیں، غیر ملکیوں کا انخلاء 31 اگست تک مکمل ہو جانا چاہیے، انخلاء کی ڈیڈ لائن میں توسیع کا فیصلہ نہیں کیا۔ ڈیڈ لائن کی خلاف ورزی ہوئی تو امریکا نتائج بھگتے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان جلد قومی فوج تشکیل دیں گے، سابق فوجی اگر قابل ہوئے تو انہیں نئی قومی فورس میں شامل کیا جائے گا، نوکری پیشہ خواتین سیکیورٹی انتظامات تک گھروں پر رہیں، بے وفا ممالک اور لوگوں کی فہرست طویل ہے وقت آنے پر بات کریں گے، افغان سر زمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہو گی۔سی آئی اے کے سربراہ کی ملا عبدالغنی برادر سے کابل میں خفیہ ملاقات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے لیکن امریکا کا سفارت خانہ یہاں موجود ہے اور سفارتی سطح پر ملاقاتوں کی اجازت ہے۔ نہیں چاہتے سفارتخانے بند ہوں اور سفارتکار یہاں سے چلے جائیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular