
دوحہ : قطر میں افغانستان کی طالبان انتظامیہ کے سیاسی دفتر کے سربراہ سہیل شاہین نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں مغربی ثقافت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ طالبان لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں ہیں۔ افغانستان اسلامی ملک ہے اور خواتین کے حقوق کے معاملے میں اس کا یورپی ممالک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان میں لاکھوں لڑکیاں پرائمری اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ تعلیم، اعلیٰ تعلیم، عوامی صحت اور داخلہ کی وزارتوں میں خواتین کام کر رہی ہیں، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیگر مسائل حل کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان دوحہ معاہدے کی پاسداری پر عمل پیرا ہے، کسی کو بھی افغان سرزمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، یہ ہماری پالیسی ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔


































