
برسلز : اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ نے اس ماہ فلسطینی بچوں کو قتل اور زخمی کرنے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق چیف مشیل بیچلیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ‘ کسی تصادم کی لپیٹ میں بچوں کو لینا انہیں زخمی اور ہلاک کرنا بہت تکلیف دہ بات ہے۔ اس سال کے دوران بہت سارے بچوں کا ہلاک ہونا اور معذور ہونا قابل برداشت نہیں ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں اپنی فضائی اور توپ خانے کا استعمال کرتے ہوئے اسلامی جہاد گروپ کو نشانہ بنانے کے نام پر بمباری کی تھی جس میں سویلین فلسطینیوں سمیت بچے بھی لقمہ اجل بنے.اس باریےمیں مشیل بیچلیٹ کے دفتر کا کہنا ہے کہ تین دنوں کے دوران 19 فلسطینی بچے جاں بحق ہوئے۔ یہ سب فلسطینی آبادی کے اندر ہوئے اور اس طرح مجموعی طور اس سال 37 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں مشیل بیچلیٹ نے مزید کہا جس کسی بھی حملے کے آغا زمیں ہی جب علم ہو کہ گنجان آبادی کی وجہ سے سویلین نشانہ بنیں گے۔ گھروں سمیت سویلین عمارات تنباہ ہوں گے اور زیادہ نقصان عام لوگوں کو ہی ہوگا تو ایسے حملوں کو ہونا ہی نہیں چاہیے، ان حملوں کو روکا جانا چاہیے۔ ‘ تاہم اقوام متحدہ کی اس ذمہ دار نے اس موقع پر اسرائیل یا اسرائیلی فوج کا نام نہیں لیا ۔ انہوں نے فلسطینی گروپوں کی طرف سے راکٹ داغے جانے کو بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ۔


































