
اسلام آباد: سابق فارن سیکرٹری شمشاد احمد نے کہا ہے کہ امریکا کی پاکستان میں مداخلت بہت گہری اور پرانی ہے۔
ایک نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شمشاد احمد کا کہنا تھاکہ نائن الیون کے بعد جنرل مشرف امریکا کی آنکھ کا تارا بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ نوازشریف کو جاتا ہے،جنرل جہانگیر کرامت سمیت ان کی اپنی پارٹی کے لوگ ایٹمی دھماکے نہیں چاہتے تھے، جنرل جہانگیر کرامت نےکہا ہمیں اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔
شمشاد احمد کا کہنا تھا کہ امریکا کی پاکستان میں مداخلت بہت گہری اور پرانی ہے، داعش کمانڈر کی حوالگی جیسے واقعات پاک امریکا تعلقات میں نئی بات نہیں ہے۔
سابق فارن سیکرٹری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چکلالہ میٹنگ میں جنرل مشرف اور نواز شریف سرنڈر کرنے پر راضی تھے، چکلالہ میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہم نے فوج واپس بلانی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو بتایا گیا کہ ہم نے انڈیا کو ایسی جگہ سے پکڑا ہے جہاں سے کوئی نہیں چھڑا سکتا، نوازشریف نے پوچھا سری نگر پہنچ جائیں گے؟ جنرل نے جواب دیا آپ کا نام تاریخ میں یاد رکھا جائےگا۔ شمشاد احمد نے کہا کہ بارہ اکتوبر کو ٹی وی پر دیکھا فوج نے مارشل لا لگا دیا، نوازشریف نے فون کال پرکہا شمشاد صاحب یہ آگئےہیں، میں نے سعودی کراؤن پرنس کو پیغام بھیجا کہ نوازشریف کو کوئی نقصان نہ ہو، سعودی سفیر نے بتایا فکر نہ کریں میری کراؤن پرنس سے بات ہوگئی ہے۔
سابق فارن سیکرٹری کا مزید کہنا تھا کہ اکتوبر کو صبح 7 بجے مجھے جی ایچ کیو بلایا گیا، جی ایچ کیو پہنچنے پرکہا گیا کہ تین ماہ ہمارے ساتھ گزاریں، جنرل مشرف سے کہا کہ آپ کی قبولیت کےلیے ہمیں گلف ممالک کا دورہ کرنا ہوگا۔


































