
واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اسلاموفوبیا کی نگرانی اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک خصوصی مندوب مقرر کرنے سے متعلق قانون سازی منظور کرلی۔ قانون سازی کے حق میں 219 ڈیموکریٹک اراکین نے ووٹ دیے جبکہ 212 ریپبلکنز نے اس کی مخالفت کی اور اب یہ بل امریکی سینیٹ کو ارسال کیا جائے گا۔ خصوسی مندوب اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سالانہ انسانی حقوق کی رپورٹس میں حکومتوں کی حمایت سے ہونے والے اسلام مخالف تشدد کے واقعات اور اس میں دی گئی چھوٹ پر بھی رپورٹ کرے گا۔ یہ بل 2 قانون سازوں نے پیش کیا جن میں ایک الہان عمر ہیں جو ایوان کے مسلم اراکین میں سے ایک ہیں اور اکثر نفرت آمیز بیانیے اور قتل کی دھمکیوں کا سامنا کرتی رہتی ہیں جبکہ دوسری رکن جین شیکوسکی شگاگو کے مضافات سے تعلق رکھنے والی ایک 77 سالہ سفید فام یہودی خاتون ہیں۔ دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کی نگرانی کرنے کے لیے ایک عہدےکی تخلیق یا یہ اقدام ریپبلکن قانون ساز لارین بوئیبرٹ کے ایک بیان کے بعد اٹھایا گیا جس میں انہوں نے الہان عمر کو ایک مسلمان دہشت گرد سے تشبیہہ دی تھی۔ بل کی سمری کے مطابق مندوب خصوصی پالیسی سازوں کو مسلم دشمنی کے باہم منسلک عالمی مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد کرے گا۔ ساتھ ہی مندوب امریکی قیادت کے لیے دنیا بھر میں اسلاموفوبیا سے لڑنے کے ایک جامع حکمت عملی بھی قائم کرے گا۔ جین شیکوسکی جنہوں نے نہ صرف بل پیش کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ اس کی منظوری کے لیے بھرپور مہم بھی چلائی، کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسا اس لیے کیا کیوں کہ وہ نہیں چاہتیں کہ مسلمانوں کو ان کے عقیدے کی وجہ سے نشانہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسے کئی طرح دیکھا ہے، میری کمیونٹی میں امریکی کانگریس میں، اور ہم جانتے ہیں کہ یہ دنیا بھر میں ہورہا ہے اور ڈرامائی طور پر اسلاموفوبیا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’نہ صرف لوگ ایک دوسرے کو برا بولتے ہیں بلکہ تشدد کی جانب گامزن ہیں۔ایوان میں بل پر ہونے والی بحث کے دوران ان کا کہنا تھا کہ صرف امریکا میں اسلاموفوبیا کے 500 سے زائد واقعات کا اندراج ہوا ہے۔


































