
واشنگٹن : امریکا ایک جانب تو ایران سے مذاکرات کی اپیلیں کررہا ہے اور دوسری جانب زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی برقرار رکھتے ہوئے ایران کے تیل کے شعبے سے متعلق نئی پابندیاں لگادیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ نئی پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور اداروں کے ایک نیٹ ورک نے خلیج میں قائم فرنٹ کمپنیوں کا استعمال کیا اور ایرانی کمپنیوں کی کروڑوں ڈالر مالیت کی پِٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی مشرقی ایشیا کو ترسیل اور فروخت کو آسان بنایا ہے۔ نئی پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور اداروں میں ایران میں قائم جَم پیٹرو کیمیکل کمپنی بھی شامل ہے۔اس پر محکمہ خزانہ نے پورے مشرقی ایشیا میں کام کرنے والی کمپنیوں کو کروڑوں ڈالرمالیت کی پیٹرو کیمیکل مصنوعات برآمد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔نیز ان مصنوعات کو چین بھیجنے کے لیے پہلے ایران کی پیٹرو کیمیکل کمرشل کمپنی کو فروخت کیا گیا تھا۔


































