
غزہ : صیہونی فوج نے شمالی غزہ کے 11 لاکھ فلسطینیوں کو 24 گھنٹوں میں علاقہ چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ سے کہا ہےکہ وادی غزہ کےشمال میں رہنےوالے ہر شخص کو اگلے 24 گھنٹوں میں جنوبی غزہ منتقل ہو جانا چاہیے۔ جس میں اقوام متحدہ کی تنصیبات اسکول، صحت کے مراکز اور کلینکس میں پناہ لینے والے افراد اور عملہ بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے اسرائیل سے حکم منسوخ کرنے کی اپیل کی تاکہ سانحے کو ایک المناک صورتحال میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ تعداد تقریباً 11 لاکھ ہے جو پوری غزہ پٹی کی آبادی کا تقریباً نصف ہے۔ اُدھر اسرائیل نے چھٹے دن بھی غزہ پر اندھا دھند بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔ تازہ بمباری میں مزید 52 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے جس سے مرنیوالوں کی تعداد سولہ سو کے قریب جاپہنچی۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد سات ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ اب تک سینکڑوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ مردہ خانے لاشوں سے بھر گئے ہیں اسپتالوں میں زخمیوں کیلئے جگہ ختم ہوگئی۔
اقوم متحدہ کے مطابق صرف غزہ میں تین لاکھ اڑتیس ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ دنیا کے گنجان ترین علاقے میں ہرطرف اسرائیلی جنگی جرائم کے شواہد بکھرے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے چھ دنوں کے دوران غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر چار ہزار ٹن وزنی چھ ہزار بم گرائے ہیں۔ فضائی حملوں میں 3600 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔


































