
نیویارک: فلسطینی حامی اور خوجہ برادری سے تعلق رکھنے والے ظہران ممدانی نے نیویارک کا پہلا مسلمان میئر منتخب ہوکر تاریخ رقم کردی۔ صدر ٹرمپ کی حمایت کے باوجود سابق گورنر اینڈریو کومو بھاری مارجن سے ہار گئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک میں میئر کے الیکشن میں بیس لاکھ سے زائد ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ ظہران ممدانی کو ساٹھ فیصد سے زائد ووٹ ملے۔ وہ یکم جنوری کو حلف اٹھائیں گے۔کامیابی کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ظہران ممدانی نےکہا کہ سیاسی تاریکی کے اس دور میں نیو یارک روشنی بنے گا۔ نیویارک اب وہ شہر نہیں رہا جہاں اسلاموفوبیا کے نام پر الیکشن جیتا جائے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ شہر کو سب کے لیے قابلِ رہائش بنانے، مفت بس سروس، یونیورسل چائلڈ کیئراور بڑھتے کرایوں پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ ممدانی نے اپنی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس شہر نے اُسے جنم دیا، وہی اُسے شکست دے سکتا ہے۔ الیکشن نے ثابت کردیا کہ امید اب بھی زندہ ہے، آج خوف کی شکست اور امید کی جیت ہوئی ہے۔ ممدانی کی کامیابی امریکی صدر ٹرمپ کیلئے بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہے۔
ظہران ممدانی ایک بین المذاہب گھرانے میں پیدا ہوئے ان کے والد محمود ممدانی مسلمان خوجہ اثنا عشری جبکہ والدہ میرا نائر ہندو گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ بھارت کی مشہور فلمساز ہیں۔ ظہران ممدانی خود کو علی اعلان مسلمان کہتے ہیں۔ ممدانی خاندان ہندوستانی نژاد خوجہ مسلمانوں میں سے ہے جو انیس ویں صدی کے آخر میں یوگینڈا اور مشرقی افریقہ کے خطے میں ہجرت کر گیا تھا۔


































