
دوحہ : حماس نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو فلسطینی معاملات میں ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے کسی بھی باضابطہ تجویز سے انہیں آگاہ نہیں کیا گیا۔
حماس کے سینئر سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے ٹیلگرام پر ایک بیان میں کہا کہ ٹونی بلیئر فلسطینی عوام کے لیے ایک منفی شخصیت ہیں۔ بلیئر کے ساتھ کسی بھی منصوبے کو جوڑنا فلسطینی عوام کے لیے نحوست کی علامت ہے۔ حسام بدران نے کہا کہ ٹونی بلیئر کا ماضی خاص طور پر 2003 سے 2011 تک عراق جنگ میں ان کا کردار انہیں بین الاقوامی عدالتوں کے سامنے لانے کے قابل ہے۔ حسام بدران نے ٹونی بلیئر کو شیطان کا بھائی قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے فلسطینی، عرب یا مسلمانوں کے لیے کوئی مثبت کام نہیں کیا۔ بدران نے زور دیا کہ غزہ یا مغربی کنارے میں فلسطینی امور کا انتظام داخلی معاملہ ہے جو قومی اتفاق رائے سے طے ہونا چاہیے کسی بین الاقوامی یا علاقائی فریق کے ذریعے نہیں۔ حسام بدران نے کہا کہ جنگ بندی کی مبینہ تجاویز ابھی تک صرف میڈیا کے ذریعے گردش میں ہیں اور کوئی باضابطہ پیشکش نہیں ہوئی۔


































