
تہران : ایرانی صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس کی ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اقتصادی شعبوں میں شنگھائی تنظیم کے اراکین کا تعاون دنیا کی اقوام کے سامنے ایک منصفانہ علاقائی نظام کا واضح نمونہ رکھ سکتا ہے۔ گذشتہ دہائیوں کے تجربے سے یہ بات پوری طرح عیاں ہے کہ مغرب کی عسکریت پسندی کے ساتھ ساتھ ڈالر کے غلبے نے مغرب کے استبدادی نظام کو بیناد فراہم کی ہے۔ اسی لیے ایک منصفانہ بین الاقوامی نظام کی تشکیل کے لئے خطے کے باہمی داخلی معامالات میں تسلط کے اس ہتھیار کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایرانی صدر نے کہاکہ اتحاد اور صلح کے لیے رکن ممالک کی سب سے بڑی صلاحیت ان کی تہذیبی صلاحیت ہے اور آج جب یہ قدیم براعظم پھر سے انگڑائی لے چکا ہے تو اسے اخلاقیات، روحانیت، انصاف، عقلیت اور انسانی وقار کے احترام کی تہذیب کا نمونہ بن جانا چاہئے۔
شنگھائی تعاون تنظیم، تہذیبوں کے اس عظیم خاندان کی علامت کے طور پر اب ایک ایسی پوزیشن میں کھڑی ہے جو علاقائی ہم آہنگی اور سلامتی کی تعمیر میں تعاون کے نئے افق قائم کر سکتی ہے۔ صدر رئیسی نے تاکید کی کہ قوموں کی اقدار اور مقدسات کا احترام ایک وحدت بخش اصول ہے اور اقدار کی کسی قسم کی توہین بالخصوص بعض یورپی ممالک کی طرف سے قرآن کریم کی توہین ان کے اخلاقی گراوٹ کو ظاہر کرتی ہے اور نفرت اور نا امنی کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے، لہذا مہذب قوموں کو اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس غیر مہذب روئے کا خاتمہ کرنا چاہیے۔


































