
استنبول : اسرائیل نے صمود فلوٹیلا سے گرفتار ایک سو سینتیس افراد کو رہا کردیا۔ ترک کارکنوں نے سخت بدسلوکی اور تشدد کا الزام لگایا ہے۔
اسرائیلی حکام نے چار اطالوی باشندوں کے بعد گذشتہ روز ترکیہ کے چھتیس رضاکاروں سمیت ایک سو سینتیس افراد کو رہا کردیا۔ رہائی پانیوالوں کو خصوصی طیارے سے استنبول پہنچایا گیا ۔ جہاں ایئرپورٹ پر ہزاروں افراد نے اپنے ہیروز کا شاندار استقبال کیا۔
ترک رضاکاروں نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے صمود فلوٹیلا سے گرفتار کئے گئے افراد پر تشدد کیا۔ انہیں کھانے پینے اور دواؤں سے محروم رکھا۔ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو بالوں سے گھسیٹ کر اسرائیلی پرچم چومنے پر مجبور کیا گیا۔
کارکنوں نے کہا کہ اگر ہمارے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے تو فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا، اس کا تصور بھی ہولناک ہے۔


































