
لاہور: اعلیٰ عدلیہ اور چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے تحریک انصاف کے زیر اہتمام ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔ لاہور کے لکشمی چوک پر پی ٹی آئی کی چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے نکالی جانے والی ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بھارت جانے سے پہلے بلاول نے کسی سے پوچھا؟ جے شنکر نے جس طرح زبان استعمال کی اس سے اندازہ ہوگیاکہ اُسے مہمان نوازی کے آداب نہیں آتے کیونکہ مہمان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے۔ عمران خان نے برطانوی شاہ چارلس سوم کی تاج پوشی میں وزیر اعظم کی شرکت پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف عوام کو مہنگائی کے سیلاب میں چھوڑ کر برطانیہ کیا لینے گئے اور کس طرح چلے گئے، ان کا علاج، کاروبار اور بچے سب کچھ باہر ہے اور انہیں پاکستان کے عوام کی کوئی پروا نہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق ملک چلانا چاہتے ہیں، یہ عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر یہ سوچ رہے ہیں کہ الیکشن نہیں ہوں گے یہ کسی بھول میں ہیں، ساری قوم آئین اور ججوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جلد انتخابی جلسے شروع کروں گا اور عوام میں نکل کر ججوں کے خلاف مافیا کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کروں گا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارا بس ایک اور واحد مطالبہ الیکشن ہے، ہم خیبرپختونخوا میں بھی انتخابات چاہتے ہیں، امپورٹڈ حکومت نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا جس کی وجہ سے مہنگائی عروج پر ہے۔ کرپٹ حکمرانوں نے مہنگائی بڑھا دی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت جنرل (ر) باجوہ نے گرائی اور ملک کو ایسا نقصان پہنچایا جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا۔ عمران خان نے کہا کہ مجھے دو بار مارنے کی کوشش کی گئی اور اس کے پیچھے حاظر جنرل تھا جس نے اعظم سواتی پر بھی تشدد کیا، اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار یہ ہوگا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ سیاست نہیں آزادی کے لیے جہاد کرنا ہے۔ جب تک ملک میں الیکشن نہیں ہوتے باہر نکلتا رہوں گا اور ظلم کا مقابلہ کرتا رہوں گا۔


































