
مانو گو: ایرانی صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ امریکہ پابندیوں کے ذریعے مرعوب کرنا چاہتا تھا لیکن ہم نے اس کو فرصت میں تبدیل کردیا۔ نکاراگوا کے دارالحکومت ماناگوا کے آزادی اسکوائر پر خطاب میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور نیکاراگوئے آزادی، خودمختاری اور عدالت طلبی میں مشترکہ موقف رکھتے ہیں۔ امریکہ دھمکی اور پابندیوں کے سہارے ہمیں ترقی سے روکنا چاہتا تھا لیکن ہم نے نہ صرف پیشرفت جاری رکھی بلکہ امریکی پابندیوں کو فرصت میں تبدیل کرکے ملکی صنعت کو ترقی دی۔ ایران نے عوامی حکومت کے 44 سال کے دوران جمہوری اداروں کو فروغ دیا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک جمہوریت کے حوالے سے دوغلی پالیسی رکھتے ہیں۔ زبانی طور پر جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن عملی طور پر عوامی رائے کی دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ صدر رئیسی نے دہشت گردی کے خلاف میں مغربی ممالک کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک دہشت گردی کی ترویج کرتے ہیں جبکہ اس جنگ کے حقیقی ہیرو شہید قاسم سلیمانی ہیں۔ انہوں نے ایران اور نکاراگوئے کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں مخصوصا تعلیم اور ٹیکنالوجی میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ اس موقع پر میزبان ملک کے صدر اورتگا نے کہا کہ ایران اور نکاراگوئے دونوں نے استعمار کے خلاف طویل جدوجہد کی ہے۔ امریکہ نے دونوں ملکوں میں اپنی جڑیں مضبوط کی تھیں۔ استکباری طاقتیں جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر آزادی کے طالب ممالک پر دباو ڈالتے ہیں لیکن ہم نے پوری طاقت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا ہے۔


































