
واشنگٹن : روس اور ایران کے درمیان ڈرون کی فراہمی کے ممکنہ سمجھوتے پر امریکا کی پریشانی بڑھ گئی۔ اور اس نے دھمکی دی ہے کہ روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی اور اس وجہ سے ان پر اقتصادی پابندیوں کو زیادہ مضبوطی سے عائد کرے گا۔ امریکی دفتر خارجہ کے نائب ترجمان وینڈت پٹیل نے بتایا کہ روسی حکام نے گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران ڈرون طیاروں کے حصول کے معاہدے کے حصے کے طور پر ایرانی ماہرین سے تربیت حاصل کی ہے۔ امریکا نے ان تمام امور کا جائزہ لیا ہے کہ ایران کی طرف سے روس کو حملہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرون طیارے موصول ہوئے ہیں ۔ امریکا کو ایران کے ان ڈرونز کے بارے میں غیر معمولی طور پر تشویش ہے۔ایرانی ڈرون امریکی افواج اور امریکی اتحادیوں کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں ، اس لیے امریکہ صرف اقتصادی پابندیوں تک نہ رہے گا بلکہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پیچھے تک جائے گا اور ایران کو ڈرونز سے متعلق لوازمات فراہم کرنے والوں اور ایرانی خریدداری کے پورے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے اقدامات بھی کرے گا۔


































