
رام اللہ : فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ غاصب صیہونی ریاست کے قبضے کے خاتمے تک فلسطینی عوام اپنے ملک میں موجود رہے گی۔ محمود عباس نے امریکی معاون وزیر خارجہ برائے مشرقی امور باربارا لیف کی سربراہی میں امریکی وفد سے ملاقات میں خطے کی تبدیلیوں،فلسطین کی خطرناک ہوتی صورتحال،فلسطینی عوام، بیت المقدس اور ان کے مقدسات کے خلاف صیہونی حکومت کی بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ محمود عباس نے کہا کہ ہمارا مقصد بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق اسرائیل سے نجات حاصل کرنا ہے۔ مشرقی بیت المقدس فلسطین کا ابدی دارالحکومت تھا،ہے اور رہے گا۔ ہم اپنے قومی اصولوں پر سودے بازی نہیں کریں گے۔ ہم اپنے قدم جما رہے ہیں اور اسرائیل کے بھاگنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ فلسطینی عوام کے لئے سیاسی منظر نامے اور بین الاقوامی حمایت کی کمی کو دیکھتے ہوئے موجودہ صورتحال پر خاموش یا اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ محمود عباس کا کہنا تھا کہ فلسطینی رہنماء صیہونی حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کررہےہیں۔کیونکہ عالمی برادری نےصیہونی حکومت کو اپنی مجرمانہ اور غاصبانہ سرگرمیاں ترک کرنے پر مجبور نہیں کیا ہے۔ انہوں نے صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی پر امریکی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی آزادی کے لئے چلنے والی تحریکوں کو دہشت گردی کی فہرست سے خارج ہونا چاہیئے۔ انہوں نے اپنی درخواست کا اعادہ کیا کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو دہشت گرد اداروں کی امریکی فہرست سے نکال دیا جائے ۔ انہوں نے واشنگٹن میں پی ایل او کا دفتر اور مشرقی یروشلم کے لیے امریکی قونصل خانہ کو دوبارہ کھولنے کی درخواست کی۔


































