Tue Oct 20, 2026

ایرانی تنصیبات پر حملہ ہوا تو 9 ممالک کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، مشیر ولی امر مسلمین یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا یمن پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے، یمنی فوج کا نجران پر جوابی میزائل حملہ شرائط پوری ہو جائیں تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھل جائے گی، عراقچی بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بم دھماکے سے میجر شہید، 4 دہشت گرد ہلاک مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان کینیڈا کے فوجی اڈے پر تباہ کن آتشزدگی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق؛ تحقیقات جاری فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں یمنی فوج نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 ارکان ہلاک فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش، مصری صدر یمن میں کارروائی کیلئے تیار خطے میں امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ امریکی بحریہ کا پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں

روزانہ کی خبریں

اسرائیل کے بھاگنے کا وقت آن پہنچا، قومی اصولوں پر سودے بازی نہیں کریں گے، فلسطینی صدر

رام اللہ : فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ غاصب صیہونی ریاست کے قبضے کے خاتمے تک فلسطینی عوام اپنے ملک میں موجود رہے گی۔ محمود عباس نے امریکی معاون وزیر خارجہ برائے مشرقی امور باربارا لیف کی سربراہی میں امریکی وفد سے ملاقات میں خطے کی تبدیلیوں،فلسطین کی خطرناک ہوتی صورتحال،فلسطینی عوام، بیت المقدس اور ان کے مقدسات کے خلاف صیہونی حکومت کی بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ محمود عباس نے کہا کہ ہمارا مقصد بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق اسرائیل سے نجات حاصل کرنا ہے۔ مشرقی بیت المقدس فلسطین کا ابدی دارالحکومت تھا،ہے اور رہے گا۔ ہم اپنے قومی اصولوں پر سودے بازی نہیں کریں گے۔ ہم اپنے قدم جما رہے ہیں اور اسرائیل کے بھاگنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ فلسطینی عوام کے لئے سیاسی منظر نامے اور بین الاقوامی حمایت کی کمی کو دیکھتے ہوئے موجودہ صورتحال پر خاموش یا اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ محمود عباس کا کہنا تھا کہ فلسطینی رہنماء صیہونی حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کررہےہیں۔کیونکہ عالمی برادری نےصیہونی حکومت کو اپنی مجرمانہ اور غاصبانہ سرگرمیاں ترک کرنے پر مجبور نہیں کیا ہے۔ انہوں نے صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی پر امریکی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی آزادی کے لئے چلنے والی تحریکوں کو دہشت گردی کی فہرست سے خارج ہونا چاہیئے۔ انہوں نے اپنی درخواست کا اعادہ کیا کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو دہشت گرد اداروں کی امریکی فہرست سے نکال دیا جائے ۔ انہوں نے واشنگٹن میں پی ایل او کا دفتر اور مشرقی یروشلم کے لیے امریکی قونصل خانہ کو دوبارہ کھولنے کی درخواست کی۔

مزید پڑھیے

Most Popular