
نیویارک : اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا نے جنگ بندی کے باوجود غزہ کی انسانی صورتحال کو تباہ کن قرار دیا ہے کہا ہے کہ بیشتر لوگ صرف ایک وقت کا کھانا کھا پارہے ہیں۔ انروا نے ایک بیان میں کہا ہےکہ غزہ کی آبادی کا نوے فیصد سے زائد مکمل طور پر امداد پر منحصر ہے۔ جنگ بندی کے باوجود مدد کی فراہمی میں رکاوٹیں ہیں۔
اسرائیل بین الاقوامی عملے کے داخلے کو روک رہا ہے اور امدادی سامان کی فراہمی محدود کر رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں بچوں اور شہریوں کی بنیادی ضروریات شدید طور پر متاثر ہوئی ہیں اور ایجنسی کو مالی و عملے کے مسائل کا سامنا ہے۔ انروا کے بیان میں کہا کہ گیا ہے کہ ادارے کے مالی مسائل بھی سنگین ہو چکے ہیں، کیونکہ امریکہ نے سالانہ چھتیس کروڑ ڈالر کی امداد روک دی ہے اور لاکھوں ڈالر کی منظم مہم ایجنسی کو بدنام کرنے اور اسے دہشت گردی سے غلط طور پر جوڑنے کے لیے چلائی جا رہی ہیں، جس سے تقریباً بیس کروڑ ڈالر کا خسارہ پیدا ہوا ہے۔


































