
نیویارک : اقوام متحدہ میں پاکستان کےسفیر منیر اکرم نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی توسیع کے بارے میں کئی سالوں سے متعدد اصولوں اور تفصیلات کو طے کرنے کیلئے صلح مشورہ جاری ہیں اور جنرل اسمبلی کے رکن ممالک کا ایک بڑا گروپ تمام رکن ممالک کے اتفاق رائے سے اس کا حل چاہتا ہے جس میں پاکستان اور اٹلی بھی شامل ہیں لہٰذا اس مرتبہ یہ طے کیا گیاہے کہ گزشتہ سالوں کی طرح سلامتی کونسل کی توسیع کے بارے میں صلح مشورے اور غور کے مرحلہ کو آئندہ سال کیلئے ملتوی کیا جائے۔ سلامتی کونسل کی توسیع کیلئے ابھی یہ اصول طے ہونا باقی ہیں کہ سلامتی کونسل کی کتنی توسیع ہو؟ کتنے اراکین مستقل ہوں؟ ویٹو کا اختیار کس کو حاصل ہوگا؟ توسیع کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ انہوں نے پاکستان اور اٹلی کے باہمی تعاون سے متفقہ طور پر فیصلہ کرنے کے حق کے حامی ممالک کے گروپ کی کئی سال قبل تشکیل کا ذکر بھی کیا جو سلامتی کونسل کی توسیع اور بھارت کے سلامتی کونسل کی مستقل نشست کے ارادوں میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔


































