
بغداد: عراق میں سیاسی بحران شدت اختیار کرگیا۔ حکومت سازی میں ناکامی کے بعد صدر گروپ کے 73 ارکان پارلیمنٹ مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے گذشتہ روز اپنے استعفے اسپیکر محمد الحلبوسی کو جمع کروائے جو فوری طور پر منظور کرلئے گئے۔ اسپیکر نے کہا کہ ہم نے مایوس ہو کر اپنے بہن اور بھائیوں کے استعفے قبول کیے ہیں۔ اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات کے بعد سے ملک حکومت کے بغیر ہے۔ صدر گروپ 73 نشستیں جیت کر سب سے بڑا پارلیمانی گروپ بن گیا تھا تاہم اسے حکومت سازی کیلئے 329 رکنی پارلیمنٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں۔ مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ وہ کسی دوسرے بلاک کے ساتھ مل کر ایسا اتحاد نہیں بنائیں گے جو نئے وزیر اعظم کے لئے اپنی حمایت حاصل کرسکے۔ انہوں نے اپنے بلاک کے استعفے کو قوم کی مبہم تقدیر سے نجات کے لیے دی گئی قربانی قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سازی میں تعطل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہمارا بلاک حکومت سازی میں رکاوٹ ہے تو بلاک کے تمام نمائندے پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔ انہوں نے ملک میں نئی حکومت کی تشکیل میں تعطل کو بھی وضاحت کے بغیر جعلی قرار دیا ہے۔


































