
غزہ: صیہونی فوج حماس کے خلاف آپریشن کے نام پر الشفا اسپتال میں گھس گئی۔ صیہونی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر ٹارگٹ آپریشن کیا جارہا ہے۔ حماس نے یرغمالیوں کو اسپتال میں رکھا ہوا ہے۔ اسپتال عملے کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے سرجیکل اور ایمرجنسی شعبے کے ساتھ ساتھ تہہ خانوں کی بھی تلاشی لی۔ اسپتال کے محفوظ راستے سے نکلنے والوں پر گولی چلائی گئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسپتال میں چھ سو پچاس مریضوں سمیت 7ہزار پانچ سو افراد 48 گھنٹوں سے پھنسے ہوئے ہیں۔
امریکا نے الشفا اسپتال پر چڑھائی کی حمایت کردی۔ صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے آپریشن سے پہلے امریکی صدر جو بائیڈن کو ٹیلی فون کرکے اپنے عزائم سے آگاہ کیا۔ امریکی ترجمان جان کربی نے دعویٰ کیا کہ حماس نے الشفاء اسپتال میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کر رکھا ہے جہاں اس نے اسلحہ ذخیرہ کر رکھا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ امریکا و اسرائیل طبی مراکز پر حملوں کے جواز کیلئے انہیں مزاحمت کاروں کے کمانڈ سینٹر قرار دینے کے کے بیانیہ کو فروغ دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ الشفا اسپتال میں تین دن میں 75 مریض دم توڑ چکے ہیں جبکہ سو مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔


































