
تہران : ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا کہ تمام امریکی پابندیوں کو ہٹانا ایران کے لیے ویانا جوہری مذاکرات میں واپسی کی شرط ہے اس لئے کہ ہمیں یہ اطمینان حاصل ہونا چاہئیے کہ تمام پابندیاں ختم ہو گئی ہیں ایران یقیناً جوہری مذاکرات میں شامل ہو جائے گا لیکن اس کی تاریخ کا تعین، مطالعے اور مذاکرات کے ہونے والے ادوار کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا فرانسیسی چینل سے گفتگو میں ترجمان نے کہا کہ ہم نے دو مرحلوں میں ایران میں نئی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد ریکارڈ کا جائزہ لینے کا عمل شروع کیا پہلا مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور ہم نے اعلان کیا ہے کہ ہم یقینی طور پر گروپ 1+4 کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ویانا جائیں گے جائزہ کا دوسرا مرحلہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور ہم سابقہ ایرانی حکومت کے مذاکرات کے چھ دور کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں مختلف قسم کے سوالات ہیں اور نئی حکومت کوتاہیوں کو دور کرنے کے لیے کوشاں ہے اور یہ مرحلہ بھی جلد ختم ہو جائے گا اور ہم مذاکرات کے ایک نئے دور کی تاریخ طے کر سکیں گے محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم جوہری مذاکرات کے ریکارڈ چیک کرنے کے مراحل ختم ہوجانے کے بعد ہی ویانا مذاکرات میں واپس آئیں گے نئی حکومت اس کوشش میں ہے کہ پچھلے مذاکرات اطمینان بخش اور نتیجہ خیز ہونے اور ایسی دستاویز جس سے تمام فریق متفق بھی تھے کیوں کامیاب نہیں ہوئے۔ نیز حکومت ان مسائل کا بھی جائزہ لے رہی ہے جنہیں اگلے اجلاس میں حل کرنے کی ضرورت ہے اور یہ سب کچھ تحریر میں آ چکا ہے سب سے اہم مسئلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکل جانے کے بعد عائد کردہ تمام پابندیوں کا خاتمہ ہے۔


































