
واشنگٹن: امریکا نے نائن الیون کے بیس سال بعد واقعہ کی تحقیقات کا پہلا مسودہ جاری کر دیا، امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی کی تحققیات کے 16 صفحات پر مشتمل مسودہ سعودی سفارتکار کے سانحہ میں ملوث ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، متعدد شواہد اور بیانات پر مشتمل دستاویز میں لاس اینجلس میں زیر تعلیم سعودی طالب علم عمر البایومی کو مشکوک قرار دیا گیا ہے، عمر البایومی سعودی طالب علم تھا لیکن ایف بی آئی اسے سعودی انٹیجلنس ایجنٹ قرار دیتی ہے، ایف بی آئی نے دعوی کیا ہے کہ سعودی طالب علم نے 2 ہائی جیکرز کو سفری دستاویزات اور مالی معاونت فراہم کی، ایف بی آئی کی دستاویز عمر البایومی کے اقدامات کو انفرادی فعل قرار دیتی ہے، جس میں سعودی حکومت ملوث نہیں، دستاویز جاری کرنے کیلئے صدربائیڈن پر کافی دباؤ تھا، حادثے میں مرنے والوں کے لواحقین مطالبہ کررہے تھے کہ رپورٹ سامنے لائی جائیں، سعودی سفارتخانے نے رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پہلے بھی وضاحت دے چکے ہیں کہ حملوں میں سعودی عرب ملوث نہیں ۔


































