
بیروت : حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے ویڈیو لنک خطاب میں کہا کہ جوبائیڈن کے دورہ مشرق وسطیٰ سے بہت سی امیدیں اور گمان ہیں لیکن آج کا امریکا 2003 اور 2006 کے امریکا سے مختلف ہے۔ آج امریکا یوکرین کے عوام اور حکومت کے ذریعے روس کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے۔ اس نے یورپ کے تمام ممالک کو اپنے ساتھ گھسیٹا ہے جو اس کا شکار ہونے لگے ہیں۔امریکا روس کو فتح یاب ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا۔جوبائیڈن کا پہلا مقصد یورپ میں روسی تیل اور گیس کے متبادل کو یقینی بنانا ہے۔ جو بائیڈن اس خطے کا دورہ کر رہے ہیں جس کا مقصد سعودی رہنماؤں کو عالمی تیل کی منڈی میں خام تیل کی نئی سپلائی پہنچانے کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ وہ خلیجی ممالک کو زیادہ تیل اور گیس پیدا کرنے اور برآمد کرنے پر آمادہ کرنے آئے ہیں۔ حسن نصراللہ نے کہا کہ بائیڈن خطے میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی موجود ہے کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے اور خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے اس کے منصوبے کو آگے بڑھا رہا ہے۔اس کے پاس فلسطینی عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔انہوں نے اسرائیلی وزیر برائے عسکری امور بینی گینٹز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لبنان کو دھمکی دے رہے ہیں جبکہ آپ کی فوج محصور غزہ میں چند میٹر آگے بڑھنے میں ناکام رہی ہے۔ اسرائیل لبنان کے خلاف زمینی کارروائیاں کرنے سے قاصر ہے۔ اس نے اپنی واحد امید فضائی حملوں پر رکھی ہے، بیروت، سیدون اور طائر پر حملہ کرنے کی اسرائیلی دھمکی کھوکھلی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ دشمن تک ڈرون کا پیغام بھی پہنچ گیا ہے. سید حسن نصر اللہ نے عرب ممالک کی نیٹو کی تشکیل کے حوالے سے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں معلوم ہو جائے گا کہ عرب نیٹو تشکیل پاتی ہے یا نہیں.


































