
بیروت : حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ یوم قدس کی تقریر کے بعد انکے پاس سفارتی ذریعے سے پیغام آیا کہ صیہونی حکومت لبنان کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔لیکن ہم صیہونی دشمن کی کسی بات پر یقین نہیں کرتے، اس کی حکومت اور اسکے وزیر اعظم کے پیغام پر بھروسہ نہیں کرتے، اس لئے ہم نے اسرائیل کی جارحیت کے خاتمے تک پوری طرح الرٹ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہم 2005 میں مزاحمت کی حمایت کے لئے کابینہ میں شامل ہوئے، ہم حکومت سے مزاحمت کی حمایت نہیں چاہتے بلکہ اتنا چاہتے ہیں کہ اس کے ارکان کی پیٹھ میں خنجر نہ مارے۔ امریکا کی مراعات حاصل کرنے کے لئے مشرق کے ساتھ عدم تعاون سے، ہم پیشرفت نہیں کر پائیں گے۔ حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ باوجود اس کے ہمارے پاس سمندری خزانہ موجود ہے مگر پھر بھی ہماری قوم بیروزگاری، مہنگائی اور بھکمری کی تکلیف جھیل رہی ہے، ہم سمندر سے اپنے خزانے کیوں نہ نکالیں، ہم امریکا کے ڈر سے یہ کام کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ کیا امریکہ ناکہ بندی، بھوک اور اسرائیل سے ہمارے خلاف جارحیت کرانے کے علاوہ بھی کچھ اور کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ملک کے رائے دہند گان کے پاس آئندہ انتخابات میں دو متبادل میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار ہے، ایک وہ دھڑا جسکا سارا ہم و غم لبنان ہے اور دوسرا وہ دھڑا جو امریکا کو خوش کرنا چاہتا ہے۔ لبنان سبھی کا ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب اور سیاسی نظریہ میں یقین رکھتا ہو اور لبنان کا مزاحمتی محاذ ملک کے سیاسی نظام اور دستور کو بدلنا نہیں چاہتا۔ ہم پارلمینٹ میں نارمل کوٹے سے سبھی کی نمائندگی چاہتے ہیں، ہم شراکت کی اپیل کرتے ہیں، اکثریت اور اقلیت کے نعرے کے تحت دوسروں کا صفایا کرنے سے لبنان افراتفری کا شکار ہو جائے گا.


































