
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے متنازع توہین صحابہؓ بل کی مذمت کرتے ہوئے اسے نظر ثانی کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیجنے کا مطالبہ کردیا۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ متنازعہ بل کی منظوری کے بعد عوام کا پارلیمنٹ سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ متنازعہ ترمیمی بل کیخلاف ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے۔ شیعہ قوم پر کسی دوسری فقہ کے مطابق کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ یہ متنازعہ ترمیمی ایکٹ ایک شیعہ دشمن رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور دستور بھی مسلم پاکستان کی بات کرتا ہے، مسلکی کی نہیں، جو بھی قوانین بننے چاہیئں وہ پاکستان کے آئین و قانون کی بنیادی روح کے مطابق بننے چاہیئں، آئین پاکستان میں ہر فرد کو اپنے عقائد کے مطابق آزادی حاصل ہے۔ انتہاء پسند ٹولہ ملک کو تباہ کرنا چاہتا ہے، قرآن وسنت کے خلاف قوانین نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فقہاء اور مجتہدین کا فتویٰ ہے کہ اہل سنت کے مقدسات کی توہین حرام ہے، اس بل میں نا صحابہ کی تعریف ہے نا اہلیبت کی تعریف کہ گئی، یہ یزید کو بچانے کا بل ہے۔ یہ اہلبیت کے دشمنوں کو تحفظ دینے کا بل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں جو سزا تجویز کی گئی ہے وہ قرآن و سنت کے برخلاف ہے، اگر ہم نے ایف آئی آرز کروانا شروع کیں کو اہلسنت کی ہر بڑی کتاب پر پابندی لگ جائے گی۔


































