Wed Oct 14, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

غزہ پر وحشیانہ حملے جاری، مزید 40 شہید، مجموعی تعداد 10 ہزار سے تجاوز، بیشتر خواتین و بچے شامل

غزہ : صیہونی جنگی طیاروں نے بتیس ویں دن بھی غزہ پر خوفناک حملے جاری رکھے۔ رات بھر بمباری سے مزید چالیس افراد شہید اور کئی زخمی ہوگئے۔ صیہونی فوج نے خان یونس کے ضلع معان میں رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔جس میں آٹھ افراد شہید ہوئے۔ غزہ شہر کے ناصر میڈیکل کمپلیکس پر حملے میں آٹھ جبکہ رفح میں چودہ افراد جان سے گئے۔ الشبورہ پناہ گزین کیمپ میں بھی رہائشی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا جس میں دس شہادتیں ہوئیں۔ درجنوں زخمیوں کو بھی اسپتال لایا گیا۔ شہدا میں بیشتر خواتین اور بچے ہیں۔ صیہونی جنگی طیاروں کی خوفناک بمباری نےغزہ کو ملیا میٹ کردیا۔ ایک ماہ سے جاری وحشیانہ حملوں میں شہدا کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ جبکہ پچیس ہزار سے زائد زخمی ہیں۔
سات اکتوبر سے جاری خونی حملوں نے غزہ کا چپہ چپہ خون میں نہلا دیا ہے۔ اسپتال۔ اسکول۔ مساجد۔ چرچ۔ پناہ گاہیں۔ رہائشی عمارتوں سمیت کوئی مقام محفوظ نہ رہا۔ ادھر مغربی کنارے میں بھی صیہونی دہشت گردی جاری ہے۔ تلکرم اور بیت عنان میں مزید دو افراد شہید ہوئے۔ چوبیس گھنٹوں میں شہدا کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔ سات اکتوبر کے بعد مغربی کنارے میں 152 افراد شہید ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular