
سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استعفیٰ دے دیا۔ دونوں نے اپنے استعفے صدر کو بھجوادیئے۔
جسٹس منصور نے لکھا کہ ستائیس ویں آئینی ترمیم آئین پر سنگین حملہ ہے۔ سپریم کورٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ جسٹس منصور نےاستعفے میں احمد فراز کے اشعار بھی لکھ دیے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگی ہے۔ انصاف عام آدمی سے دور، کمزور اور طاقتور کے سامنے بےبس ہوگیا۔ جس عدالت سے آئینی کردار ہی لے لیا گیا اس میں رہ کر حلف کی پاسداری ممکن نہیں رہی۔ ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل گیا دیا ہے، آئینی نظام کی ایسی بگاڑ ناقابل برداشت ہے اور وقت کے ساتھ اسے پلٹا جائے گا۔
جسٹس منصور نے لکھا کہ ستائیس ویں آئینی ترمیم بغیر کسی مشاورت، عدلیہ کی رائے یا بحث کے پارلیمنٹ سے منظور کی گئی۔ یہ کوئی اصلاح نہیں بلکہ خطرناک ترین قسم کی تنزلی ہے۔ ادارے کی عزت، ایمانداری اور دیانت کے ساتھ خدمت کی۔ صاف ضمیر کے ساتھ جارہاہوں، کوئی پچھتاوا نہیں ۔
جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا وہ باقی نہیں رہا۔ ستائیس ویں ترمیم سے متعلق تفصیلی خط چیف جسٹس کو لکھ چکا ہوں۔دوبارہ تذکرے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ پوری کوشش کی کہ خود کو قائل کروں کہ آئین زندہ ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج وہی حلف مجھے استعفیٰ دینے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ عہدہ اور لباس میرے لیے عزت کا باعث تھے، مگر اب انہیں آخری بار اتار رہا ہوں۔


































