
مظفرآباد : آزاد کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال پر زندگی مفلوج ہوگئی۔ دارالحکومت مظفرآباد میں تجارتی مراکز، بازار اور لاری اڈے بند ہیں جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب ہے ۔ صبح سویرے کھلنے والے ہوٹل اور دکانیں بھی بند ہیں۔ سرکاری اور نجی اسکول کھلے لیکن طلبہ نہیں آئے۔
کشمیر میں دوسرے روز بھی انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند ہے، پہلی مرتبہ لینڈ لائن ٹیلی فون سروس بھی بند کردی گئی ہے۔ جس کے بعد شہریوں کے ریاست کے باہر رابطے منقطع ہو کر رہ گئے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی ترجمان زیب النساء نے بتایا کہ انٹرنیٹ سروسز وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایت پربند کی گئی ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش کے بعد کئی شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستیں اور اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائیں۔


































