
ایران کی مسلح افواج کے سینئر ترجمان نے خطرات کے جواب کے تسلسل پر زور دیتے ہوئے فضائی دفاعی صلاحیت میں اضافے اور سکیورٹی معاملات میں تبدیلی کی خبر دی ہے۔ ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابو الفضل شکارچی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے طے کردہ شرائط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اگر یہ شرائط پوری نہ ہوئیں تو امریکی افواج کے خلاف اقدامات نہیں رکیں گے اور جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں، خصوصاً فضائی دفاع کے شعبے میں، مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور یہ عمل نہ صرف رکے گا نہیں بلکہ مزید تیزی سے جاری رہے گا۔ ان کے مطابق ملکی سائنسدان اور ماہرین بغیر کسی وقفے کے جدید دفاعی نظام تیار کر رہے ہیں۔ شکارچی نے واضح کیا کہ یہ پیشرفت جنگی حالات میں بھی جاری رہی ہے اور دشمن کے جدید آلات، بشمول پانچویں نسل کے جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت، ملک کی دفاعی طاقت میں اضافے کا ثبوت ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے کا مستقبل ایران کی مقرر کردہ شرائط کی تکمیل سے مشروط ہو گا اور یقیناً اس کی حالت ماضی جیسی نہیں رہے گی۔
ترجمان نے کہا کہ دشمن کو نقصان پہنچانے کا عمل مسلسل جاری ہے اور مختلف مراحل میں اس کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ مسلح افواج کے ترجمان نے حالیہ میدانِ جنگ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران طے شدہ راستے پر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کر رہا ہے اور اس میں کسی قسم کی پسپائی نہیں ہو گی۔ شکارچی کے مطابق، صیہونی حکومت کو ابتداء سے اب تک کم از کم 1321 ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ ان کے سرکاری اعداد و شمار اس سے کم اور سنسر شدہ ہیں۔ حیفہ میں ایک حملے میں تقریباً 100 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میزائل اور ڈرون حملوں نے اسرائیلی فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ہزاروں افراد انشورنس کلیمز کے لیے رجوع کر رہے ہیں۔
امریکی نقصانات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اندازوں کے مطابق 600 سے 800 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، اگرچہ یہ کم از کم تعداد ہے اور اس میں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہوٹل میں موجود امریکی فوجیوں پر حملے میں تقریباً 160 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اسی طرح مختلف اڈوں، خصوصاً امریکی بحری بیڑے کے پانچویں فلیٹ کے اڈے پر زخمیوں اور ہلاکتوں کی منتقلی شدتِ نقصان کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو چیز امریکہ اور اسرائیل کے لیے غیر متوقع تھی، وہ جنگ کے دوران ایران کا قومی اتحاد تھا، حتیٰ کہ رہبر کی شہادت کے بعد بھی عوام نے فوری طور پر نئی قیادت کا انتخاب کیا۔ انہوں نے اس کو نظام کی مضبوطی اور انقلاب کے تسلسل کی علامت قرار دیا۔


































