
لندن : برطانیہ میں سیاسی بحران میں شدت آگئی اور تاریخ میں پہلی بار 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ تعداد میں اراکین پارلمینٹ حکومتی عہدوں سے مستعفیٰ ہوگئے۔ اب تک 38 وزرا، پرائیوٹ پارلیمانی سیکریٹریز اور دیگر عہدیدار حکومت سے علیحدہ ہوگئے ہیں۔1932 کے بعد پہلی بار کسی ایک وزیراعظم کے دور میں اتنی بڑی تعداد میں حکومتی عہدیدار مستعفی ہوئے ہیں۔ نئے وزرا کی تعیناتیوں کے باوجود استعفوں کا سلسلہ نہ رک سکا اور وزیر اطفال ول کوئنس، سالسٹر جنرل الیکس چاک، وزیر اسکولز رابن واکر، پارلیمانی سیکریٹری لارا ٹروٹ اور ورجینیا کروسبی نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ تجارتی ایلچی تھیو کلارک اور اینڈریو موریسن بھی اپنے عہدے چھوڑ چکے ہیں۔اسی طرح جان گلین، فیلیسٹی بُکان، لی اینڈرسن اور رابرٹ ہالفون بھی بورس جانسن پر عدم اعتماد کرچکے ہیں۔وزیر انصاف وکٹوریہ ایٹکنزمے، وزیر ورکس اینڈ پینشن ممز ڈیوس، وزیرثقافت جولیا لوپیز، وزیر تجارت لی راؤلی، وزیر تعلیم ایلکس برگارٹ بھی مستعفی ہوچکے ہیں۔ ادھر سینیئر ٹوری رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر لیام فوکس اور وزیراعظم بورس جانسن کے دیرینہ ساتھی مائیکل گوو نے بھی انہیں استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بورس جانسن مستقبل میں کوئی بھی عدم اعتماد ووٹنگ جیت جائیں گے۔


































