Mon Oct 19, 2026

یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا یمن پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے، یمنی فوج کا نجران پر جوابی میزائل حملہ شرائط پوری ہو جائیں تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھل جائے گی، عراقچی بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بم دھماکے سے میجر شہید، 4 دہشت گرد ہلاک مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان کینیڈا کے فوجی اڈے پر تباہ کن آتشزدگی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق؛ تحقیقات جاری فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں یمنی فوج نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 ارکان ہلاک فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش، مصری صدر یمن میں کارروائی کیلئے تیار خطے میں امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ امریکی بحریہ کا پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں ایران کا انصار اللہ اور سعودی عرب میں ثالثی کی پیشکش کا اعادہ

روزانہ کی خبریں

یمن پر عرب اتحاد کی جارحیت، 4 ہزار بچوں سمیت 18 ہزار افراد جانبحق

صنعا : یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت میں 4 ہزار بچوں سمیت 18 ہزار افراد شہید ہوگئے انسانی حقوق و ترقی کے مرکز عین الانسانیہ نے یمن پر سعودی اتحاد کی 26 سو روزہ جارحیت میں ہوئے نقصانات کے اعداد و شمار جاری کردئے سعودی عرب نے امریکی حمایت اور متحدہ عرب امارات و چند دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر مارچ 2015 سے یمن کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے۔رپورٹ کے مطابق جارحیت میں 46 ہزار 374 افراد شہید اور زخمی ہوئے جن میں سے 17ہزار 775 افراد شہید اور 28 ہزار 599 زخمی ہوئے ۔شہدا میں 4 ہزار 28 بچے شامل ہیں 4 ہزار 599 بچے زخمی ہوئے ۔رپورٹ کے مطابق 1307 مرد شہید ہوئے ہیں اور 21 ہزار 91 دیگر زخمی ہوئے ہیں جبکہ اس دوران 2 ہزار 440 عورتیں شہید اور 2193 زخمی ہوئیں. سعودی اتحاد نے یمن کے پندرہ ہوائی اڈوں، سولہ بندرگاہوں، 342 بجلی گھروں، 614 مواصلاتی مراکز،2 ہزار 185 پانی کے ذرائع اور ڈیم، 2095 سرکاری تنصیبات اور 6 ہزار 827 پلوں اور راستوں کو نشانہ بنایا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران 5 لاکھ 90 ہزار 770 مکانات، 1662 مساجد، 182 تعلیمی مراکز، 376 سیاحتی مراکز، 413 اسپتالوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیے

Most Popular