
ماسکو: روس نے افغان طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔ روسی نیوز ایجنسی کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ طالبان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ اعلیٰ سطح پر کیا گیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے نمائندہ برائے افغانستان زمیر کابلووف نے کہا ہے کہ اس فیصلے کو حقیقت میں بدلنے کے لیے متعدد قانونی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ روسی صدر پیوٹن نے جولائی میں کہا تھا کہ روس افغانستان کی طالبان تحریک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی سمجھتا ہے۔ روس نے 2003 میں طالبان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اسے ہٹانا افغانستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف ماسکو کا ایک اہم قدم ہوگا۔روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نےکہا کہ ماسکو موجودہ افغان حکومت کے ساتھ عملی بات چیت کو برقرار رکھنےکی ضرورت کا قائل ہے۔ لاوروف نے کہا کہ کابل کے بغیر مسائل کا حل یا افغان تصفیہ پر بات چیت کرنا ناممکن ہے۔ لاوروف نے کہا کہ امریکہ کو افغانستان کو ضبط کیے گئے اثاثے واپس کرنے چاہئیں اور مغرب کو ملک میں تنازعات کے بعد کی تعمیر نو کی ذمہ داری کو تسلیم کرنا چاہیے۔


































