
ریاض : سعودی عرب نے ایران کو خبردار کیا ہےکہ اگر مملکت یا اس کے توانائی کی تنصیبات پر حملے جاری رہے تو ریاض جوابی کارروائی کرے گا۔ جبکہ قطر نے کہا ہےکہ موجودہ کشیدگی عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرناک نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
نیوز ایجنسی رائیٹر کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو پیغام دیا ہے کہ ریاض ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو میں ریاض کا مؤقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کے لیے کسی بھی ثالثی کی حمایت کرتا ہے۔ خلیجی ممالک نے امریکا کو ایران پر حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ادھر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے اور دنیا میں استحکام برقرار رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں اور سیاسی راستے اختیار کرنا ناگزیر ہیں۔


































