
کراچی : بھارتی سپریم کورٹ نے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو گینگ ریپ کیس کے مجرموں کو رہا کرنے کے فیصلے پر ریاستی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ عدالت کے اس حکم کو بی جے پی حکومت کی بڑی سبکی قرار دیا جا رہا ہے۔مجرموں کو معافی دینے کے خلاف دائر درخواست پر عدالت میں اپنی دلیل پیش کرتے ہوئےسینئر وکیل کپل سبل کا کہنا تھا کہ 14 افراد قتل کر دیے گئے، ایک حاملہ اور کئی دیگر خواتین کا گینگ ریپ کیا گیا،3سالہ بچی کا سر زمین پر کچل کر اسے مار دیا گیا۔ ملزمیصن کی شناخت ہو گئی، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ریاستی حکومت نے آخر کن وجوہات کی بنا پر عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان مجرموں کومعافی دے دی۔ سپریم کورٹ نے ان کی رہائی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ گجرات سرکار کی مذکورہ اسکیم کے تحت قاتل اور گینگ ریپ کے مجرموں کومعافی دی جاسکتی ہے یا نہیں۔ وہ یہ بھی دیکھنا چاہتی ہے کہ آیا ان مجرموں کو معافی دیتے وقت عقل اور سمجھ بوجھ کے ساتھ غور و خوض کیا گیا تھا یا نہیں۔سپریم کورٹ نے اس معاملے میں تمام گیارہ مجرموں کو بھی فریق بنانے کا حکم دیا۔


































