Tue Oct 20, 2026

امریکی و اسرائیلی حملے کھلی جارحیت، اسلام آباد مفاہمت بحال کی جائے: چینی وزیراعظم فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا امریکی سپریم کورٹ سے رجوع محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی پارٹنر شپ بڑھانے پر اتفاق فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار حوثیوں کے حملے: سعودیہ اور امارات کا قریبی روابط اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور سینیٹ ارکان کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور متحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق امریکی کارروائی کے نتیجے میں دنیا کو توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، پاسداران انقلاب روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا، روسی وزیر خارجہ مشرقی وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت قطر کا نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حملہ، سعودی نواز ملیشیا کے 53 افراد ہلاک، 200 زخمی ایرانی تنصیبات پر حملہ ہوا تو 9 ممالک کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، مشیر ولی امر مسلمین یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا

روزانہ کی خبریں

بلقیس بانو گینگ ریپ کیس کے مجرموں کی رہائی پر گجرات حکومت سے جواب طلب

کراچی : بھارتی سپریم کورٹ نے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو گینگ ریپ کیس کے مجرموں کو رہا کرنے کے فیصلے پر ریاستی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ عدالت کے اس حکم کو بی جے پی حکومت کی بڑی سبکی قرار دیا جا رہا ہے۔مجرموں کو معافی دینے کے خلاف دائر درخواست پر عدالت میں اپنی دلیل پیش کرتے ہوئےسینئر وکیل کپل سبل کا کہنا تھا کہ 14 افراد قتل کر دیے گئے، ایک حاملہ اور کئی دیگر خواتین کا گینگ ریپ کیا گیا،3سالہ بچی کا سر زمین پر کچل کر اسے مار دیا گیا۔ ملزمیصن کی شناخت ہو گئی، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ریاستی حکومت نے آخر کن وجوہات کی بنا پر عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان مجرموں کومعافی دے دی۔ سپریم کورٹ نے ان کی رہائی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ گجرات سرکار کی مذکورہ اسکیم کے تحت قاتل اور گینگ ریپ کے مجرموں کومعافی دی جاسکتی ہے یا نہیں۔ وہ یہ بھی دیکھنا چاہتی ہے کہ آیا ان مجرموں کو معافی دیتے وقت عقل اور سمجھ بوجھ کے ساتھ غور و خوض کیا گیا تھا یا نہیں۔سپریم کورٹ نے اس معاملے میں تمام گیارہ مجرموں کو بھی فریق بنانے کا حکم دیا۔

مزید پڑھیے

Most Popular