
بیروت : حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان کو بحیرہ روم سے تیل و گیس نکالنے کا حق نہیں ملا تو غاصب صیہونی ریاست کو بھی مقبوضہ علاقوں میں کہیں بھی تیل و گیس نہیں نکالنے دیں گے۔ سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کا اطمینان نہیں کہ ہم جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ممکن ہے کسی مقام کو نشانہ بنانے اور اس کے رد عمل کا مشاہدہ کریں، معاملہ غاصب صیہونی حکومت کے جواب پر منحصر ہے کہ جو ممکن ہے حالات کو جنگ کی جانب لے جائے۔ البتہ یہ امکان بھی موجود ہے کہ صیہونی رجیم بھی جنگ کے بغیر ہتھیار ڈال دے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کسی نئے تصادم کو شروع کرنے کی خواہش نہیں رکھتے، ہم صرف لبنان کا حق چاہتے ہیں، البتہ ساتھ ہی اپنے مطالبات کی حد کو بڑھائیں گے تا کہ صیہونی حکومت اور امریکا ماننے پر مجبور ہوں، توجہ رہنی چاہئے کہ موجودہ حالات میں لبنان کی صورتحال بالکل بھی سازگار نہیں ہے اور اس کے لئے چارہ جوئی کی ضرورت ہے۔ اگر لبنان میں موجود بعض گروہوں کا راہ حل پسپائی اختیار کرنا ہے تو ہم ہرگز اس فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ اگرچہ اب تک لبنان مذاکرات کے عمل میں بڑی بڑی مراعات دے چکا ہے تاہم ابھی تک امریکی ثالث سمندری سرحدوں کی حدبندی کے مذاکرات میں کوئی مناسب جواب لے کر نہیں آیا کہ جو لبنان کے کمترین مطالبات کو پورا کرسکے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دشمن کوئی گولی یا میزائل چلے بغیر ہتھیار ڈال دے اور لبنان کے حق بجانب مطالبات تسلیم کر لے۔ ہم آنے والے حالات اور تبدیلیوں کے منتظر ہیں اور تمام آپشنز کے لئے تیار ہیں۔ حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مقاومت کا کوئی وجود ہو کیونکہ مقاومت صیہونی حکومت کے لئے سنجیدہ خطرے میں تبدیل ہوچکی تھی، البتہ آج مقاومت صرف صیہونی رجیم کے لئے خطرہ نہیں ہے بلکہ خطے میں امریکا کے پورے گیم پلان کے لئے خطرہ ہے۔ آج دشمن کمزوری کا احساس کر رہا ہے اور جنگ نہیں چاہتا کیونکہ اسے معلوم ہے اگلی جنگ میں اس کا سامنا صرف حزب اللہ سے نہیں ہوگا اور ممکن ہے کہ مقاومت کا پورا محور اس کے خلاف صف بندی کر لے۔ یہ ایسی جنگ ہوگی کہ جس انجام صیہونی رجیم کی نابودی ہوگا اور انہی دلائل کی وجہ سے ان کے لئے جنگ ایک انتہائی خطرناک اور بہت مہنگا رسک ہوگی۔


































