
تہران : ولی امرالمسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بیرونی مداخلت سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی ممالک کے درمیان مذاکرات ہی خطے کے موجودہ مسائل کا بہترین حل ہے۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ ملاقات میں ولی امر مسلمین نےکہا کہ یمن اور شام کے مسائل بھی بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ بلاشبہ، ایسے وقت میں بات چیت کمزور پوزیشن سے نہیں کی جانی چاہئے جب مخالف فریق زیادہ تر امریکا اور دیگر فوجی اور مالی طاقت پر انحصار کرتے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے انتظام کو بیرونی فریقوں کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نےکہا کہ صیہونی جہاں بھی جاتے ہیں فتنہ اور دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں اور وہ علاقائی ممالک کو کوئی طاقت یا مراعات نہیں دے سکتے۔ لہذا، ہمیں علاقائی ممالک کے طور پر مشترکہ سوچ اور تعاون کے ذریعے اپنے تعلقات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا چاہیے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے قطری امیر کے اس بیان کی توثیق کرتے ہوئے جس میں اُنہوں نے صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کی تھی۔ شریر صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینی عوام پر کئی دہائیوں سے جاری ظلم و ستم کو ایک تلخ حقیقت اور عالم اسلام اور عرب دنیا کے لیے دھچکا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان جرائم کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران عرب دنیا سے واضح سیاسی اقدام کی توقع رکھتا ہے۔ مقبوضہ فلسطینی شہر القدس کے پر امن علاقے شیخ جراح پر اسرائیلی افواج کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے کہا اس معاملے میں بعض عرب ممالک کی فلسطینی عوام کی حمایت، بعض یورپی ممالک جتنی بھی نہيں تھی انہوں نے کوئی موقف تک اختیار نہیں کیا اور اب بھی اسی طرح عمل کر رہے ہیں۔ اگر عرب ممالک کی طرف سے یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ وہ صیہونی حکومت کے خوف سے یا اس سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں، تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ آج غاصب حکومت ایسے حالات میں ہے کہ کسی کو اس سے کوئی امید یا خوف نہیں ہوسکتا۔ توقع ہے کہ عرب دنیا ان واضح جرائم کے مقابلے میں واضح طور پر سیاسی عمل کے میدان میں داخل ہو گی۔


































