
کراچی : مجلس وحدت مسلمین سندھ نے اربعین کے جلوس میں شرکت کے لئے جانے والوں پر مقدمات کو قانون کے نام پر بدترین لاقانونیت قرار دیا ہے،کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے سیکریٹری جنرل علامہ باقرعباس زیدی نے کہا کہ نیو کراچی، عائشہ منزل، شارع فیصل اسٹار گیٹ پر سیکیورٹی اہلکاروں کا اربعین مارچ کے شرکاء پرتشدد اور ہراساں کرنا اور شاہراہوں پر سبیل حسین علیہ السلام کو بلا جواز ہٹانے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، ملت تشیع کے ساتھ جو سلوک موجودہ نام نہاد جمہوری حکومت نے اختیار کر رکھا ہے، ایسا سلوک تو سخت ترین آمریت میں بھی نہیں دیکھا گیا، ہم سے مذہبی آزادی کا آئینی حق چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے، انہوں نے بتایا کہ اندرون سندھ ٹنڈو الہ یار میں4، ٹنڈو محمد خان میں ایک،بدین میں3 ، دادو میں6، جامشورو میں ایک اور شکار پور میں ایک مقدمہ درج کیا گیا، انہوں نے کہا کہ سندھ میں اجرک ڈے، روایتی و ثقافتی تہوار اور مختلف مواقعوں پر غیر معمولی تعداد میں افراد جمع ہوتے ہیں، بے نظیر بھٹو کی برسی کی تقریب میں سندھ کے مختلف حصوں سے لاڑکانہ تک پیدل مارچ کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں کارکنان آتے ہیں، اس کے علاوہ سندھ میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے جلسے جلوسوں کی بھی مکمل آزادی حاصل ہے، لیکن امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کو قانون کی خلاف ورزی سمجھ لیا جاتا ہے، پولیس کا یہ دوہرا معیار تشویش و اضطراب کا باعث ہے، علامہ باقر زیدی کا کہنا تھا کہ یزید کے پیروکاروں کی خوشنودی کے لئے حسینؑ کے نام لیواؤں کے ساتھ ریاستی ظلم و بربریت ملک کے امن کو خراب کرنے کی دانستہ کوشش ہے، ہم حکومت اور ریاستی اداروں پر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ کربلا کے ماننے والوں کو طاقت یا اختیارات کے بل بوتے پر دبایا نہیں جا سکتا، انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ عوامی ردعمل کی طرف جائیں، لیکن اگر ان انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو ملت تشیع سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائے گی، ملک گیر دھرنوں کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی، نیوز کانفرنس میں علامہ صادق جعفری، علامہ ملک غلام عباس، علامہ علی انور جعفری، علامہ مبشر حسن اور سلمان حیدر سمیت دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔


































