
دوحہ : حماس کے سینئر رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا عمل ممکنہ طور پر پیر سے شروع ہو سکتا ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں موسیٰ ابو مرزوق نے بتایا کہ قیدیوں کے تبادلے کے عمل کو غیر اعلانیہ رکھا جائے گا تاکہ کسی قسم کی اشتعال انگیزی یاعسکری رنگ نہ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تبادلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد ممکن ہوا ہے۔
ابو مرزوق نے کہا کہ حماس کے پاس مذاکرات میں کئی طاقتور کارڈز موجود ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو قیدیوں کے معاملے کو غزہ پر جنگ جاری رکھنے کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ حماس رہنما نے مزید بتایا کہ ان کی تنظیم ثالثوں کے ساتھ مل کر اس عمل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی رہنماؤں کی رہائی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔


































