Mon Oct 19, 2026

ایرانی تنصیبات پر حملہ ہوا تو 9 ممالک کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، مشیر ولی امر مسلمین یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا یمن پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے، یمنی فوج کا نجران پر جوابی میزائل حملہ شرائط پوری ہو جائیں تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھل جائے گی، عراقچی بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بم دھماکے سے میجر شہید، 4 دہشت گرد ہلاک مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان کینیڈا کے فوجی اڈے پر تباہ کن آتشزدگی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق؛ تحقیقات جاری فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں یمنی فوج نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 ارکان ہلاک فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش، مصری صدر یمن میں کارروائی کیلئے تیار خطے میں امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ امریکی بحریہ کا پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں

روزانہ کی خبریں

برطانیہ میں وزارت عظمیٰ کی دوڑ، پہلے مرحلے میں بھارتی نژاد رشی سوناک سرفہرست، دو امیدوار باہر

لندن : برطانیہ میں وزارت عظمیٰ کی دوڑ کے پہلے مرحلے میں بھارتی نژاد سابق وزیرخزانہ رشی سوناک پہلے نمبر پر ہے جبکہ دو امیدوار دوڑ سے باہر ہوگئے۔ رِشی سوناک کے وزارت خزانہ سے مستعفی ہونے کے بعد ہی بورس جانسن کے زوال کی راہ ہموار ہوئی تھی۔رِشی سوناک نے کنزرویٹو پارٹی کے دارالعوام کے 358 اراکین میں سے 88 کی حمایت حاصل کی ہے جونیئر وزیر تجارت پینی مورڈانٹ 67 ووٹوں کے ساتھ دوسرے اور وزیر خارجہ لیزٹرس 50 کے ساتھ تیسرے نمبرپر ہیں۔ ناظم الزہاوی اور سابق وزیرخارجہ جیریمی ہنٹ مطلوبہ کم سے کم 30 ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے مقابلے سے ناک آؤٹ ہوگئے ہیں۔ باقی ماندہ امیدوار سابق وزیر انصاف کیمی بڈینوچ، اٹارنی جنرل سویلا بریورمین، پارلیمنٹ کی خارجہ امورکمیٹی کے چیئرمین ٹام ٹوگندھٹ جمعرات کو دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے گزریں گے۔اس کے بعد کنزرویٹو قانون سازحتمی امیدوار کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔اس عمل میں ہر بار سب سے کم ووٹ لینے والے امیدوارکا خاتمہ کیا جائے گا اور 21 جولائی کو میدان میں رہ جانے والے آخری دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ان میں سے نئے قدامت پسند رہنما کا انتخاب جماعت کے دولاکھ ارکان کریں گے۔ملک میں کنزرویٹو پارٹی کے ارکان کی بڑی تعداد ہے۔ ان کا اعلان 5 ستمبر کو کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے

Most Popular