
راولپنڈی : ملک کی سیاسی قیادت نے افغانستان میں امن و استحکام‘ داخلی سلامتی اور پاکستان کے بنیادی اسٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے افواج پاکستان کی صلاحیتوں‘ پالیسیوں اور اقدامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کا افغانستان میں کوئی کردار نہیں تھا بلکہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ہی وہاں گیاتھا ‘پوری قوم کو پاک فوج پر فخر ہے جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا کہ افغانستان میں 15 اگست کوجو کچھ ہوا وہ غیر متوقع تھا ‘امریکا نے انخلاء میں جلد بازی کی‘مسلح افواج نے قوم کی حمایت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ملک میں حالات معمول پر لانے میں بے مثال کامیابیاں حاصل کیں ‘ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر امن اور استحکام ممکن نہیں ‘ چیلنجزکے باوجود پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہیں اور ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں‘ افغانستان میں پاکستان کا کوئی بھی پسندیدہ نہیں ،ہم وہاں افغان عوام کی نمائندہ حکومت چاہتے ہیں ۔آئی ایس پی آرکے مطابق پارلیمانی کشمیر کمیٹی ‘ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹیوں پر مشتمل ایک وفد نے پیر کو جی ایچ کیو کا دورہ کیا۔ وفد کو سیکیورٹی ماحول سمیت سرحدوں کی صورت حال اور امن و استحکام کے لیے پاک فوج کی کوششوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔


































