Thu Oct 22, 2026

دمام ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص ہلاک، 8 زخمی خلیج فارس میں 4 جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکا پر مکمل انحصار نہیں کرسکتے، ٹام بیرک مدر آف آل بمز بھی ایرانی جوہری تنصیبات تباہ نہیں کر سکتا، ٹرمپ کا مقصد جھوٹی فتح کا اعلان کرنا ہے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات سعودی عرب کی شیبہ آئل فیلڈ پر حملے میں 2 افراد ہلاک نیتن یاہو اور ٹرمپ کا زوال قریب ہے، جنرل شکارچی ہماری نگرانی کے بغیر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں، امریکا کی سعودی عرب کو سخت تنبیہ جنگ چھیڑ کر دنیا میں افراتفری پھیلانے والا ملک خود کو مظلوم ظاہر نہیں کر سکتا، اسماعیل بقائی یمنی فوج کی پیشقدمی، تعز کے 11 اضلاع سے سعودی ملیشیا کو نکال دیا گیا ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا میں دفاعی تعاون کا سمجھوتہ دھمکیوں اور پابندیوں کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں، ایرانی صدر پاکستان اور سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ، منظوری کیلئے بل ترک پارلیمنٹ میں پیش فیلڈ مارشل اور ایرانی سیکورٹی چیف کی ملاقات، افزودہ یورینیم ایران سے باہر نہیں جائے گی، رضائی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، میاں بیوی اور 17 سالہ نوجوان سمیت 4 فلسطینی شہید

روزانہ کی خبریں

فلسطینی صدر کی روسی ہم منصب سے ملاقات، امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار

آستانہ : فلسطین کے صدر محمود عباس اور روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تنازع کے حل کیلئے امریکا پر عدم اعتماد ظاہر کیا جبکہ روس کے کردار کی تعریف کی۔صدر محمود عباس نے بین الاقوامی ثالثین امریکا، روس، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی حمایت کا اعادہ کیا لیکن کہا کہ امریکا کو اکیلے ہی کام کرنے کا اختیار نہیں ملنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم امریکا پر اعتماد نہیں کرتے، ہم اس پر انحصار نہیں کرنا چاہتے اور کسی بھی صورت میں ہم یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ امریکا ہی اسرائیل کے ساتھ تنازع کو حل کرنے کے لیے واحد فریق ہے۔فلسطینی صدر نے کہا کہ امریکا چہار فریقی ثالثین میں ضرور شامل ہے کیونکہ وہ ایک بڑا ملک ہے لیکن ہم اسے کبھی بھی واحد فریق کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔ صدر محمود عباس نے کہا کہ وہ فلسطینی عوام کے لیے روس کی پوزیشن سے مکمل طور پر مطمئن ہیں روس انصاف اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ کھڑا ہے جو ہمارے لیے کافی ہےجب آپ کہتے ہیں کہ آپ بین الاقوامی ضابطے کا ساتھ دیں گے، یہ میرے لیے کافی ہے اور یہی میں چاہتا ہوں۔ اسی لیے ہم روس کی پوزیشن سے خوش اور مطمئن ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular