
بغداد : عراق کے پالیمانی انتخابات میں مقتدی الصدر کی پارٹی نے میدان مارلیا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق صدر گروپ 70 نشستوں پر کامیابی حاصل کرچکا ہے جو گذشتہ الیکشن سے 16نشستیں زائد ہیں۔ یادرہے کہ مقتدیٰ الصدر کے زیر قیادت بلاک نے 2018ء میں منعقدہ انتخابات میں 54 نشستیں جیتی تھیں اور حکومتوں کی تشکیل میں ان کا کردار اہم رہا تھا۔وہ عراق میں تمام غیر ملکی مداخلت کے مخالف ہیں۔ سابق وزیراعظم نوری المالکی کی جماعت دوسرے نمبر پر رہی لیکن حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ان کی جماعت نے کتنی نشستیں جیتی ہیں۔ مقتدیٰ الصدرکے دفتر کے ترجمان نے بتایا کہ انھوں نے 73 نشستیں حاصل کی ہیں۔ سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود وہ تنہا حکومت بنانے کے قابل نہیں اور انہیں اتحادی حکومت بنانا پڑے گی۔ عراق میں یہ پارلیمانی انتخابات نئے قانون کے تحت قبل از وقت منعقد کیےگئے ہیں۔ وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے یہ قانون سیاسی جماعتوں کی اقتدار پر مضبوط گرفت کو کم زور کرنے اور اصلاحات کے حامی امیدواروں کی راہ ہموار کرنے کے طریقے کے طور پر متعارف کرایا تھا۔اس کے تحت ووٹنگ کے حلقوں کو چھوٹا کر دیا گیا تھا اور پارٹیوں کی سرپرستی میں امیدواروں کی فہرستوں کو نشستیں دینے کا طریقہ بھی ترک کردیا گیا ہے۔ حشد الشعبی اور دوسری مزاحمتی تنظیموں کو گذشتہ الیکشن سے کم نشستیں ملیں اور انتخابی نتائج مسترد کردئے اور اعلان کیا ہے وہ اس کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔ کرد جماعتوں نے 61 نشستیں جیتیں کردستان ڈیموکریٹس پارٹی نے 32 اور اس کی مخالف پیٹریوٹک یونین آف کردستان پارٹی 15 نشستیں جیت سکی۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد احلبوشی کی جماعت 38 اور نوری المالکی کی جماعت نے 39 نشستیں حاصل کیں۔


































