Wed Oct 14, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

عراق کے انتخابات میں مقتدی الصدر کی برتری، مخالف جماعتوں نے نتائج مسترد کردئے

بغداد : عراق کے پالیمانی انتخابات میں مقتدی الصدر کی پارٹی نے میدان مارلیا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق صدر گروپ 70 نشستوں پر کامیابی حاصل کرچکا ہے جو گذشتہ الیکشن سے 16نشستیں زائد ہیں۔ یادرہے کہ مقتدیٰ الصدر کے زیر قیادت بلاک نے 2018ء میں منعقدہ انتخابات میں 54 نشستیں جیتی تھیں اور حکومتوں کی تشکیل میں ان کا کردار اہم رہا تھا۔وہ عراق میں تمام غیر ملکی مداخلت کے مخالف ہیں۔ سابق وزیراعظم نوری المالکی کی جماعت دوسرے نمبر پر رہی لیکن حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ان کی جماعت نے کتنی نشستیں جیتی ہیں۔ مقتدیٰ الصدرکے دفتر کے ترجمان نے بتایا کہ انھوں نے 73 نشستیں حاصل کی ہیں۔ سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود وہ تنہا حکومت بنانے کے قابل نہیں اور انہیں اتحادی حکومت بنانا پڑے گی۔ عراق میں یہ پارلیمانی انتخابات نئے قانون کے تحت قبل از وقت منعقد کیےگئے ہیں۔ وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے یہ قانون سیاسی جماعتوں کی اقتدار پر مضبوط گرفت کو کم زور کرنے اور اصلاحات کے حامی امیدواروں کی راہ ہموار کرنے کے طریقے کے طور پر متعارف کرایا تھا۔اس کے تحت ووٹنگ کے حلقوں کو چھوٹا کر دیا گیا تھا اور پارٹیوں کی سرپرستی میں امیدواروں کی فہرستوں کو نشستیں دینے کا طریقہ بھی ترک کردیا گیا ہے۔ حشد الشعبی اور دوسری مزاحمتی تنظیموں کو گذشتہ الیکشن سے کم نشستیں ملیں اور انتخابی نتائج مسترد کردئے اور اعلان کیا ہے وہ اس کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔ کرد جماعتوں نے 61 نشستیں جیتیں کردستان ڈیموکریٹس پارٹی نے 32 اور اس کی مخالف پیٹریوٹک یونین آف کردستان پارٹی 15 نشستیں جیت سکی۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد احلبوشی کی جماعت 38 اور نوری المالکی کی جماعت نے 39 نشستیں حاصل کیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular