
لکھنو: مودی سرکار نے مسلمانوں کو کچلنےکیلئے صیہونی ہتھکنڈے اختیار کرلئے۔گستاخانہ بیانات کیخلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے گھر گرائے جانے لگے۔ ہندو انتہا پسند پولیس کی نگرانی میں مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوزر کی مدد سے مسمار کر رہے ہیں۔
ادھر الہ آباد میں مظاہروں کا ماسٹر مائنڈ قرار دے کر مسلم ایکٹویسٹ جاوید احمد کو اہلخانہ سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔جاوید احمد کی بیٹی آفرین فاطمہ کا کہنا ہے کہ اہلخانہ کو رات گئے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، پولیس اہلخانہ کو ہراساں کرتے ہوئے گھر گرانے کی دھمکی دے رہی ہے۔ جاوید احمد کے گھر کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔اتر پردیش کے ہندو انتہا پسند وزیراعلیٰ یوگی آدیتیا ناتھ پولیس کی جانب سے مسلمان مظاہرین پر مظالم کے دفاع میں سامنے آ گئے اور انہوں نے مظاہرین کو شرپسند قرار دیکر کہا کہ ان کے خلاف کارروائی ایسی ہونی چاہیے کہ سب کے لیے مثال بن جائے۔ گستاخانہ بیانات کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاج کرنے والے 300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان کے خلاف مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں۔


































