
اسلام آباد : زائرین کی زمینی راستے سے زیارتوں پر جانے پر پابندی کا معاملہ قومی اسمبلی پہنچ گیا۔ پاراچنار سے رکن اسمبلی حمید حسین نے توجہ دلاؤ نوٹس پر کہا کہ زیادہ تر لوگ کوئٹہ اور تفتان کے راستے ایران و عراق زیارات پر جاتے ہیں ابھی تک فلائٹ شیڈول کا نہیں بتایا گیا. زائرین کا اکانوے ارب کا نقصان ہوچکا ہے اس کا بھی جواب نہیں دیا گیا. پنجاب سمیت دیگر جگہوں پر مجالس و جلوس میں پیدل شریک ہونے والوں پر ایف آئی آرز درج کی جاتی ہیں انکو ختم کیا جائے.
ریاض فتیانہ نے سوال کیا کہ زائرین کو بھیجنے کیلئے سستی فلائٹس چلائی جائیں یا فیری سروس کے ذریعے بھجوایا جائے. لوگوں کو زیارت اربعین سے محروم نہ ہونے دیا جائے۔وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ زائرین کیلئے زمینی راستہ کبھی بند نہیں ہوگا۔ اس بار اس معاملے کو سیکیورٹی کے پیش نظر روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں مجلس وحدت مسلمین اور شیعہ علماء کونسل کیساتھ مذاکرات ہوئے ہیں۔ جو لوگ فضائی سفر کی سکت نہیں رکھتے ان کیلئے سبسڈائز فلائٹس کا بندوبست کررہے ہیں۔ 131 فلائٹس اضافی چلا رہے ہیں معلوم ہے کہ اتنے زیادہ لوگ اربعین پر نہیں پہنچ سکتے.


































