
نیویارک : اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہےکہ پاکستان میں صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دینے سے احتساب کمزور ہو گا۔
وولکر ترک نے کہا ہےکہ پاکستان میں عجلت میں کی گئی آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور فوجی احتساب اور قانون کی حکمرانی اور اس کے احترام کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔ آئینی ترمیم وکلا برادری اور سول سوسائٹی کے ساتھ جامع مشاورت اور بحث کے بغیر منظور کی گئی۔ وولکرترک نے خبردار کیا کہ یہ ترامیم اُس اصول کے منافی ہیں جو قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہے اور پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ وولکرترک نےکہا کہ یہ تمام تبدیلیاں مل کر عدلیہ کو سیاسی مداخلت اور انتظامیہ کے کنٹرول کے تابع کرنے کے خطرے کو بڑھا دیتی ہیں۔ نہ انتظامیہ اور نہ ہی پارلیمنٹ کو اس پوزیشن میں ہونا چاہیےکہ وہ عدلیہ کو کنٹرول یا اس کی رہنمائی کرے اور عدلیہ کو اپنے فیصلوں میں کسی بھی سیاسی اثر و رسوخ سے دور رہنا چاہیے۔


































