
کویت سٹی: کویت نے اسلامائزیشن کی جانب پیشرفت کرتے ہوئے یونیورسٹی میں مرد و زن کے اختلاط پر پابندی لگادی۔ کویتی پارلیمنٹ کی اقدار کے فروغ کی کمیٹی کے سربراہ محمد حیف نے وزیر تعلیم عادل المنعہ کیساتھ پابندی کے معاہدے کا اعلان کیا۔ حیف نے کہا کہ کمیٹی کی وزیر تعلیم کے ساتھ تمام فیکلٹیوں میں مخلوط صنفی کلاسیں ختم کرنے کے لیے مفاہمت ہوگئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنسوں کے درمیان اختلاط پر پابندی کا قانون بدستور نافذ العمل ہے۔ حیف نے مخلوط کلاسوں کو ختم کرنے اور مرد وخواتین کی الگ الگ رجسٹریشن میں وزیرتعلیم کے تعاون کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلباء کو الگ کرنے اور یونیورسٹی کی تمام سرگرمیوں میں اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے حکام کو پانچ سال دینے کے حوالے سے قانون واضح ہے۔ اس فیصلے کو کویت میں قوانین کی اسلامائزیشن کی جانب ایک سلسلہ وار قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


































