
تل ابیب: غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کے بعد متوقع اسرائیلی منصوبہ جنرلز پلان کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اسرائیلی منصوبے کے مطابق غزہ کو اسرائیلی آبادکاروں سے آباد کیا جائے گا، غزہ آباد کاری منصوبے کو جنرلز پلان کا نام دیا گیا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی آباد کاری کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں اسرائیلی وزراء، اراکین پارلیمان، فوجی حکام نے بھر پور شرکت کی۔ تقریب کی رپورٹنگ کرنے پر اسرائیلی چینل کی رپورٹر پر سخت گیر یہودی آباد کاروں نے حملہ کر دیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق جنرلز پلان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مغربی کنارے اور غزہ میں نئی اسرائیلی بستیوں کی حفاظت کے لیے فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئی فورس فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے حوالے سے فوری ایکشن لے گی اور یہودی آبادکاروں کی حفاظت کرے گی۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت مغربی کنارے میں بھی یہودی بستیوں کو مزید توسیع دی جائے گی۔اس شرمناک منصوبے کے تحت مغربی کنارے میں بسے فلسطینیوں کی اسرائیل میں نوکری پر مکمل پابندی بھی زیرِ غور ہے، فلسطینی محنت کشوں کے بجائے غیر ملکی ورکرز کو اسرائیل میں نوکریاں دی جائیں گی۔ میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کا مغربی کنارے کی فلسطینی آبادی کا علاقہ مزید مختصر کرنے کا منصوبہ ہے، اس سلسلے میں مغربی کنارے کی 19 فلسطینی بستیوں کو گرایا جا چکا ہے۔ غزہ کی عرب آبادی کو بھوکا رکھ کر اور علاج کی سہولت روک کر کم سے کم کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس غیر انسانی منصوبے کی مخالفت کی ہے۔


































