
استنبول : استنبول میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں ایران پر اسرائیلی جارحیت کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔ خصوصی اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت چالیس سے زائد ممالک کے سفارت کاروں نے حصہ لیا۔ اجلاس میں ایران میں حالیہ کشیدگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سیکریٹری جنرل او آئی سی نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اسرائیل تنازعہ کا پرامن حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں ترکیہ نے تین سال کیلئے او آئی سی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا۔ نئے چیئرمین او آئی سی اور وزیرخارجہ ترکیہ حاکان فیدان نے اسرائیل کو خطے کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران اسرائیل کا تنازعہ ہمیں تباہی کی طرف لے جارہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اس جارحیت کو بڑھنے سے روکنا ہوگا۔
اجلاس کے سائیڈ لائن پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات ہوئی۔ جس میں فریقین نے خطے کی تازہ ترین پیشرفت اور ایران پر صیہونی حکومت کے حالیہ حملے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ۔ اسرائیلی جارحیت سے متعلق ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس کے علاوہ عباس عراقچی نے مصر ۔ قطر۔ عراق اور اردن کے ہم منصبوں سے بھی ملاقات کی اور ایران اسرائیل جنگ پر تبادلہ خیال کیا۔


































