
غزہ : اسرائیل کو فلسطینی مزاحمت کیخلاف ایک اور حزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ مزاحمتی قوتوں کی بھرپور راکٹ باری کے بعد جنگ بندی پر مجبور ہوگیا۔ مصر نے 15 بچوں سمیت 44 فلسطینیوں کی شہادت کے بعد صیہونی حکومت اور اسلامی جہاد میں جنگ بندی کرادی۔ تین دن تک جاری رہنے والی جارحیت اور غیر مسلح و بے گناہ شہریوں کی اموات پر عالمی برادری نے حسسب معمول مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی۔ جنگ بندی جس کا باضابطہ آغاز اتوار کو رات کو ہوا۔ غزہ کے عوام فلسطین کے پرچم کے ساتھ ، سڑکوں پر جلوس کی شکل میں نکل آئے اور غاصب صیہونی حکومت کی جارحیت کے جواب میں مزاحمتی فلسطینی تنظیموں کی جوابی کارروائیوں کی قدردانی کی۔ غزہ کے عوام نے اسی کے ساتھ مزاحمتی فلسطینی تنظیموں کی شرائط پر ہونے والی جنگ بندی کو فلسطین کی کامیابی اور غاصب صیہونی حکومت کی شکست کا ثبوت قرار دیا۔ صیہونی حملوں میں 360 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ اسلامی جہاد نے بھی اسرائیل کو بھرپور جواب دیا اور اسرائیل پر 500 سے زائد راکٹ برسائے۔ بیت المقدس کے مغربی مقبوضہ علاقوں میں دھماکوں اور سائرن کی آوازیں سنائی دیں۔ ہزاروں صیہونی تین دن تک بنکروں میں چھپے رہے۔


































