
GAZA CITY, GAZA – JULY 20: Palestinians, including children, who are struggling to access food due to Israel’s blockade and ongoing attacks on the Gaza Strip, wait in line to receive hot meals distributed by the charity organization in Gaza City, Gaza on July 20, 2025. There was a rush during the food distribution. (Photo by Ahmed Jihad Ibrahim Al-arini/Anadolu via Getty Images)
جنیوا : اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی نسل ختم کرنے کیلئے صیہونی حکومت خواتین اور بچیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہے۔ خواتین اور بچیوں پر تشدد کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ریم السالم نے الجزیرہ نیٹ ورک سے گفتگو میں کہا کہ غزہ میں تمام فلسطینی نسل کشی کا شکار ہورہے ہیں لیکن اسرائیل خواتین اور بچیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے کیونکہ وہ مزید فلسطینی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اس بات کا ادراک ہے کہ فلسطینی خواتین اور لڑکیاں فلسطینی زندگی کے تسلسل کی امید ہیں، اسی لیے انہیں جان بوجھ کر قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بڑھتے ہوئے اسقاطِ حمل کے واقعات میں دیکھ رہے ہیں جو شدید غذائی قلت کی وجہ سے فلسطینی خواتین میں ہو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین بھی اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے قابل نہیں رہیں.


































