
بغداد : عراقی پارلیمنٹ پر مقتدی الصدر کے حامیوں کے حملے اور ہنگامہ آرائی کے بعد صدر برہم صالح نے کشیدگی اور ملک کی امن و سلامتی کو متاثر کرنے والے ہر طرح کے اقدام سے اجتناب کرنے کی اپیل کردی۔ ایک بیان میں برہم صالح نے کہا کہ عراق کے آئین نے قانون کے دائرے میں اور سلامتی کے اصول کے تحت پر امن مظاہرے، آزادی اظہار رائے، قومی وقار اور مفادات کے تحفظ کے حق کی ضمانت فراہم کی ہے۔انہوں نے عوام سے امن اور دور اندیشی کا طریقہ کار اختیار کرنے اور سماجی امن و سلامتی کو متاثر کرنے والے اقدامات سے پرہیز کرنے کی اپیل بھی کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کا سیاسی نظام عوام کے حقوق کی ضمانت اور ان کے اصلاح پسندانہ اہداف کے لئے مؤثر اقدامات پر عمل پیرا ہے تاکہ ملک کی اعلیٰ اقدار اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔عراق، ایسا ملک ہے جسے دسیوں سال تک ظلم، آمریت اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، آج بھی حساس حالات سے گزر رہا ہے، اسے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے کہ جسے پار کرنے کے لئے اتحاد، جمہوریت اور قومی سلامتی کے اصولوں پر کاربند رہنا ہی وقت کا تقاضہ ہے۔


































